اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ روز تعز صوبے کے جنوبی دیہی علاقوں کے مختلف محاذوں پر نمایاں پیش قدمی کی۔ ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعز میں جاری لڑائی فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے۔
لبنان کے اخبار الاخبار کے مطابق، تعز میں لڑائی کا دائرہ جنوبی محاذوں سے بڑھ کر مغربی اور شمالی محاذوں تک پھیل گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کی مسلح افواج نے تعز کے جنوبی دیہی علاقوں کے تقریباً 90 فیصد محاذوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور تعز و عدن صوبوں کے درمیان اہم رسدی راستوں کے ساتھ ساتھ التربہ اور تعز شہروں کے درمیان رابطہ سڑکوں پر بھی اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں سعودی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ٹھکانوں کا محاصرہ ہو گیا ہے اور ان کا باہمی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
یہ پیش قدمی تعز کے جنوبی محاذوں سے لحج صوبے کے مغربی علاقے المضاربہ تک پھیل گئی ہے اور ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جبل حبشی، المعافر اور الشمایتین کے محاذوں پر سعودی حمایت یافتہ گروہوں کو پسپائی اور میدان میں شکستوں کا سامنا ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے عدن شہر کی جانب سے آنے والے فوجی رسد کے راستے کو بھی نقیل ہیجہ العبد کے اہم گزرگاہ پر بند کر دیا ہے، جو تعز کو عدن سے ملاتی ہے۔
میدانی ذرائع نے اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ شام شدید جھڑپوں کے بعد تعز صوبے کے انتہائی جنوبی حصے میں ہیجہ العبد گزرگاہ کے نچلے علاقے میں واقع الربوع بازار کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں رسد کا مرکزی راستہ بند ہو گیا اور لڑنے والے گروہوں کو متبادل راستہ الضحی استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ان ذرائع نے مزید بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے میدان کی صورتحال تبدیل کرنے کی کوشش میں اس علاقے پر متعدد فضائی حملے کیے۔ تاہم ان حملوں میں ہیجہ العبد کے راستے پر واقع ایک اہم پل بھی نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں تعز اور عدن کے درمیان رابطہ سڑک منقطع ہو گئی۔
التربہ شہر کے قریب لڑائی میں شدت
دوسری جانب اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے باخبر فوجی ذرائع نے تصدیق کی کہ الحجریہ علاقے کے مرکز التربہ شہر کے اطراف میں یمن کی مسلح افواج اور سعودی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
یہ پیش رفت یمن کی مسلح افواج کے باب النجد کے علاقے میں پیش قدمی، المسوری پہاڑ اور دبع الداخل کے علاقوں پر قبضے اور شعب الدراہم کے دیہات تک پہنچنے کے بعد سامنے آئی ہے۔
ان ذرائع نے وضاحت کی کہ باب النجد کا علاقہ، جس پر گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران یمن کی مسلح افواج نے قبضہ کیا، التربہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کلید سمجھا جاتا ہے۔ یہ علاقہ شہر کے مغرب میں واقع ہے اور اسے صبر، الصلو اور سامع کے علاقوں سے ملاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یمن کی مسلح افواج نے الصافیہ کے علاقے سے بھی پیش قدمی کی ہے تاکہ التربہ اور تعز کے درمیان رابطہ سڑک کا کنٹرول حاصل کیا جا سکے۔
قبائلی ثالثی اور لڑائی کا دائرہ وسیع
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب قبائلی ثالث الحجریہ اور سامع کے متعدد علاقوں کو لڑائی سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تعز کے مقامی ذرائع کی معلومات کے مطابق یمن کی مسلح افواج کے حامی بعض قبائلی شیوخ اور تعز کے جنوبی دیہی علاقوں میں دیگر قبائلی رہنماؤں کے درمیان بعض معاہدے طے پائے ہیں، جن کے نتیجے میں متعدد علاقوں نے غیر جانب دار رہنے اور لڑائی سے الگ ہونے پر اتفاق کیا ہے۔
ان ذرائع نے مزید بتایا کہ تعز کے جنوبی محاذوں سے یمن کی مسلح افواج کی نمایاں پیش قدمی کے ساتھ لڑائی کا دائرہ صوبے کے مشرقی اور مغربی محاذوں تک بھی پھیل گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لڑائی فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تعز شہر اور اس کے مغربی مضافاتی علاقوں کے بعض حصوں میں سعودی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے اہم ٹھکانے محاصرے میں آ گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ